گرجو بتھوڑا

گِرچُوبہت خوش تھا۔آج اُس نے گھر کے لیے نئے پردے خریدنے شہر جانا تھا۔
وہ باقی مگر مچھوں کی نسبت زیادہ مہذب، صاف ستھرا اور خوش اخلاق تھا۔اُس کی یہ خوبی اُس کے گھر سے بھی جھلکتی تھی۔ندی کنارے صاف ستھراگھر، اجلے در و دیوار اور شیشے جیسے برتن۔
اپنے گھر کی طرح وہ خود کا بھی بہت خیال رکھاکرتا۔جب باقی مگر مچھ تالاب کے گدلے پانی میں ڈبکیاں مارتے ہوئے ہلا گلا کرتے، وہ مزے سے تالاب کنارے بیٹھ کر کہانیوں کی کتاب پڑھا کرتا۔
باقی مگر مچھ اکثر اُس کا دانت صاف کرنے پر بھی مذاق اڑایا کرتے۔اپنے سر کے برابر برش کو جب وہ ننھے ہاتھوں میں تھامے زور زور سے چونسٹھ دانتوں پر رگڑتاتو کھڑکی سے جھانکتے اُس کے دوست خوب ہنسی مذاق کرتے، مگر اُسے صاف رہنا پسند تھا۔ اُس کے دوست اکثر کہا کرتے:
’’آخر کو وہ ایک بتھوڑا ہے۔اتنی صفائی اور تمیز کا کیا فائدہ؟‘‘
’’بتھوڑا؟…وہ کیا ہوتا ہے؟‘‘
گِرچُو حیرت سے پوچھا کرتا۔
’’لو، تمھیں بتھوڑا ہو کر بتھوڑے کا نہیں پتا؟‘‘
ماگو مگر مچھ اور باقی سب زور زور سے ہنستے۔
’’نہیں پتاناں، تم بتائو!‘‘ وہ مزے سے پوچھتا۔
’’ارے بتھوڑا کہتے ہیں ایک خونخوار درندے کو، جو راتوں کو بچوں کے خوابوں میں آ کر ڈراتا ہے،جو بہت ڈرائونا، گندا مندااور بد صورت ہوتا ہے۔ ہم سبھی بتھوڑے ہیں…میں اور تم بھی!‘‘ وہ جواب میں حیرت سے پلکیں جھپکاتا۔یہ بات اُس کی سمجھ میں کبھی نہ آئی تھی۔
وہ جب بھی شیشہ دیکھا کرتا، ماگو کی بات اکثر سوچتا۔وہ بد صورت تو نہیں تھا، نہ ہی گندا مندا۔وہ تو روزانہ تالاب کے پانی سے منہ دھوتا، بال بناتا اور نئے کپڑے پہنتا۔نہ ہی وہ خونخوار درندہ یا ڈرانے والا جاندار تھا۔وہ تو خود رات کے اندھیرے میں تکیے کو سینے سے چپکا کر سویا کرتا۔اُس نے تو کبھی کسی کو تنگ نہیں کیا تھا۔اسے تو بس پھول اور آئس کریم پسند تھی، پھر وہ بتھوڑا کیسے ہوا؟
’’میں بتھوڑا نہیں ہوں۔‘‘ اُس نے ایک روز ماگو مگر مچھ کو کہہ ہی دیا۔اُس روز وہ سب کانٹا ڈالے تالاب کنارے مچھلیاں پکڑ نے بیٹھے تھے۔ گِرچو سب کے لیے مزیدار کباب بنا کر لایا تھا۔
’’کیوں؟ …تم بتھوڑے کیوں نہیں ہو؟‘‘
ماگو نے کیچڑ میں لوٹنیاں لیتے ہوئے حیرت سے پوچھا۔
’’کیوں کہ میں بتھوڑے جیسا نہیں ہوں۔میں اچھا ہوں۔‘‘
گِرچُو قریب سے اڑکر جاتی ہوئی تتلی کو دیکھ کر مسکرایا۔
’’کوئی اپنی مرضی سے نہ بتھوڑا بن سکتا ہے۔نہ اپنی مرضی سے بتھوڑا ہونے سے انکار کر سکتا ہے…سمجھے؟‘‘
ماگو نے کیچڑ کے چھینٹے اڑائے۔
’’وہ کیوں؟‘‘ گرچو نے معصومیت سے پوچھا۔
’’کیوں کہ ہم پیدا ہی ایسے ہوئے ہیں۔سنا نہیں،سب ہم سے کتنا ڈرتے ہیں۔کبھی کسی نے کہا؟ یہ اچھا بتھوڑا ہے، اُس کے قریب جا سکتے ہیں۔سب ہم سے ڈرتے ہیں بچّو! ہم بتھوڑے ہیں، ڈرائونے، خونخوار اور بڑے سے بتھوڑے…!‘‘
ماگو نے زور زور سے ہنسا شروع کر دیا۔باقی سب نے بھی اُس کا ساتھ دیا۔
فضا ’’اَکھ…اَکھ…اَکھ…کھاں کھاں‘‘ کی آواز سے لرز گئی۔
’’نہیں تو…میں تو ایسا نہیں… مجھ سے کوئی نہیں ڈرے گا…میں اگر کسی کو تنگ نہیں کروں گا،صاف ستھرا رہوں گا،سب کو میٹھی گولیاں دوں گا تو کوئی مجھ سے کیوں ڈرے گا؟…پیدا ہوتے ہی کوئی بتھوڑا کیسے ہو سکتا ہے؟…بتھوڑا تو ہر کوئی اپنی مرضی سے بنتا ہے۔‘‘
گِرچو نے اپنی ننھی سی ٹوپی سر پر ٹکائی اور ایک ادا سے کہا۔
’’اچھا؟ تم سے کوئی نہیں ڈرتا…ٹھیک ہے بچّو!…تم نے کل گھر کے لیے نئے پردے لینے ہیں ناں… ذرا انسانوں میں جائو… پھر پتاچلے گا…کھی کھی کھی!!!‘‘
گاچو نے دانت نکالے اور طنزیہ ہنسی ہنسنے لگا۔

٭…٭

اور آج گِرچُوبہت خوش تھا۔آج اُس نے گھر کے لیے نئے پردے خریدنے شہر جانا تھا۔
اُس نے اپنا سفید کوٹ اور پتلون پہنی۔ خوب اچھی طرح ہاتھ منھ دھویا، دانت صاف کیے اورگنگناتا ہوا چل دیا۔
وہ بس اسٹاپ پر پہنچا ہی تھا کہ ایک بس آکر رکی۔
وہ مسکراتا ہوا جلدی سے بس میں سوار ہو گیا۔
بس میںجگہ بہت کم تھی۔اُسے ایک سیٹ کے پاس ہی باقی مسافروں کے ساتھ کھڑا ہونا پڑا۔
کسی نے اُس کی جانب نہ دیکھا۔لوگ اپنی اپنی باتوںمیں مصروف تھے۔کوئی اخبار منھ کو لگائے مگن تھا۔کسی نے موبائل فون میں سر دے رکھا تھا۔کوئی ساتھ والے کے کندھے پر سر رکھے اونگھ رہا تھا تو کوئی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے چنے کھانے میں مصروف تھا۔
اُسے دل ہی دل میں خوشی ہوئی۔
’’ماگو کی بات غلط تھی ناں!… اگر وہ بتھوڑا ہوتا تو لوگ اُس سے ڈرتے…مگر کسی نے کچھ نہیں کہا۔‘‘اُس نے سوچا۔
اچانک بس کو ایک زوردار جھٹکا لگا، اور ساتھ والی سیٹ پر لگی کیل اُس کی ٹانگ میں چبھ گئی۔
اُس کے منھ سے ایک دردناک چیخ بلند ہوئی۔
بس میں ایک لمحے کے لیے سناٹا چھا گیا۔
اور پھرساتھ والی سیٹ پر بیٹھی خاتون نے اُس کے تیز نوکیلے دانت دیکھتے ہوئے زوردار چیخ ماری۔اُس کے بعد تو جیسے بس میں بھونچال آ گیا ہو۔
ہر کوئی چیخ پکار کر رہا تھا۔
گِرچو نے بہت کوشش کی کہ انھیں بتا سکے کہ وہ دھاڑا نہیں تھا۔اسے تو بس کیل چبھی تھی، مگر جیسے ہی اُس نے بولنے کے لیے منھ کھولا۔اُس کے تیز نوکیلے چمکدار دانت دیکھ کر لوگ مزید زور سے چلائے۔انھیں لگا وہ اُن سب کو کچا چبانے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔
بس پھر کیا تھا…ہر طرف سے:
’’بتھوڑا…بتھوڑا!…بھاگوبھاگو…ارے بتھوڑا ہے… بھاگو…!‘‘
کی آوازیں آنے لگیں۔
’’مم…میں …بتھوڑا نہیں ہوں…میں تو…میں تو گِرچو ہوں…ندی کنارے میرا گھر ہے…مجھے آئس کریم پسند ہے…تمھیں بھی کھلائوں گا۔‘‘
گِرچو ایک ایک کو صفائی دینے کی کوشش کرنے لگا۔
مگر لوگ اُس کی بات خوف کے مارے ٹھیک سے سمجھ بھی نہ سکے،نھیں لگا وہ کہہ رہا ہے:
’’میں بتھوڑا ہوں۔میں تم کو مرچ لگا کر ندی کنارے گھر میں تمھاری آئس کریم بنا ئوں گا۔‘‘
لوگ چیخ رہے تھے، بھاگ رہے تھے، گرچو کو دھکے دے رہے تھے۔
اب گِرچو بہت تنگ آگیا۔بتھوڑا بتھوڑا کی رٹ سن سن کر اسے بھی غصہ آگیا۔آخر کب تک برداشت کرتا۔
’’گڑ ڑ ڑ ڑ …خڑ خڑ خڑ…‘‘ وہ زور سے دھاڑا۔
اُس کی دھاڑ بالکل بتھوڑے جیسی ہی تھی۔
سب مسافر اور زور سے چیخنے لگے۔
’’اف کتنا بھیانک بتھوڑا ہے۔‘‘ اسے کئی طرف سے آوازیں سنائی دیں۔
’’اللہ!دانت تو دیکھو… اتنے خونخوار… یہ تو درندہ ہے۔‘‘
کئی لوگ چلائے:’’یہ کتنا خوفناک اور بدصورت ہے۔یہ ضرور ہمیں کھا جائے گا۔‘‘
گِرچُو اب سب کی باتیں بت بنے سن رہا تھا۔
ڈرائیور نے بس ایک جھٹکے سے روکی اور لوگوں نے جلدی سے گِرچو کو بس سے باہر دھکیل دیا۔
وہ سڑک پار کرتے ہوئے قریب والے پارک میں آکر خاموشی سے بیٹھ گیا۔
اُس کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ چکے تھے۔ابھی صبح ہی تو اُس نے بال بنائے تھے،سب خراب ہو گئے تھے۔
’’انسان کتنے خوفناک اور ڈرائونے ہیں… بالکل بتھوڑے جیسے۔‘‘
اُس نے سوچا اوربنچ پر بیٹھتے ہوئے اداسی سے سر جھکا لیا۔
پارک اُس وقت خالی تھا۔اِس سے پہلے کہ اُسے کوئی دیکھ کر بتھوڑا بتھوڑا چلاتا، اُس نے بنچ پر پڑے اخبار کا خول سا بنایا اور دو آنکھوں کی جگہ بنا کر منھ پر پہن لیا۔
اب اُس نے پردے لینے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔
واپس گھر آتے ہوئے وہ بہت اداس اور خاموش تھا۔
اُس نے گھر آکر خود کوآئینے میں دیکھا۔
بکھرے بال، بڑی بڑی آنکھیں، چاند کی روشنی میں چمکتے تیز نوکیلے دانت اور گہری سبز رنگت، جیسے تالاب پر کائی اگی ہو۔
’’کیا واقعی وہ بتھوڑا ہے؟‘‘
اُس نے گاچوکے الفاظ یاد کیے۔
’’ہاں شاید وہ سچ ہی کہہ رہا تھا۔وہ بتھوڑا ہی پیدا ہوا تھا اور بتھوڑا ہی رہے گا۔‘‘
اُس نے سوچتے ہوئے ہاتھوں میں اپنا لمبا سا منھ چھپانے کی کوشش کی، مگر اُس کے ہاتھ کی انگلی کا ناخن اُس کی آنکھ میں جالگا۔
اُس نے آنکھ سہلاتے ہوئے سوچا۔وہ تو واقعی خطرناک درندہ ہی تھا۔کوئی بھی اُس کے قریب آئے گا تو اسے نقصان ہی ہوگا۔
’’ٹھیک ہے، ایسا ہے تو پھر ایسا ہی سہی۔وہ اگر ایک بتھوڑا ہے تو بتھوڑا ہی بن کر رہے گا۔اُس سے پہلے کہ کوئی اسے بد صورت، گندا یا خونخوار کہتے ہوئے بھاگے، وہ اُسے پہلے ہی ڈرا کر خود سے بھگا دیا کرے گا۔‘‘
گِرچو کے چہرے کی معصومیت غصے میں بدل گئی۔
اُس نے قریب ہی گلدان میں پڑے پھولوں کو توڑ کر دور پھینک دیا۔
اگلے روز وہ پھر سے شہر گیا۔
اِس بار اُس نے جان بوجھ کر سر کے بال گنگھی نہیںکیے تھے، نہ منہ دھویاتھا اور نہ ہی اچھے کپڑے پہنے تھے۔
سب سے پہلے وہ مسافروں سے لدی خودکار ٹرین میں جاکر زور سے دھاڑا:
’’گڑ ڑ ڑ ڑ ڑ …کھا کھا کھا…!‘‘
سب لوگ زور زور سے چلانے لگے:
’’بتھوڑا بتھوڑا!… بچائو بچائو۔‘‘
سب لوگ ٹرین سے باہر بھاگ گئے۔
اُس روز اس نے مزے سے اکیلے بیٹھ کر سفر کیا۔حالاں کہ اتنے رش میں تو کھڑا ہونا بھی مشکل ہوتا تھا۔
اسٹیشن سے نکل کراُس نے آئس کریم والی دُکان کا رخ کیا اور جاتے ہی دکاندار کو بولا:
’’گڑ گڑ ڑ ڑ ڑ…میں ہوں بتھوڑا… بھاگو یہاں سے۔‘‘
دکاندار جو بسکٹ والی کون میں آئس کریم نکال رہا تھا۔سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر الٹے پائوں بھاگا۔
گِرچُو نے ڈٹ کر آئس کریم کھائی۔آج تو اسے پیسے بھی نہیں دینے پڑے تھے۔
واپسی پر وہ اسی پارک میں گیا جہاں پچھلی بار لوگوں سے چھپنے کے لیے گیاتھا۔
اُس نے ایک ننھی بچی کو جھولا لیتے ہوئے دیکھا تو قریب جاتے ہی دھاڑا:
’’گڑ ڑ ڑ ڑ ڑ کھا کھا کھا…میں ہوں بتھوڑا…بھاگو!‘‘
بچی روتی ہوئی اٹھ کر بھاگ گئی۔
وہ بغیر کچھ سوچے سمجھے دھپ سے جھولے پر بیٹھا اور اندر ہی اندر خوش ہوا۔پہلے تو اسے اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔
وہ جنگل واپس آیا تو دوستوں کے ساتھ تالاب پر گیا۔ اُس روز اس نے تالاب کنارے کتاب نہیںپڑھی، بلکہ تالاب کے گدلے پانی میں باقی دوستوں کے ساتھ ڈبکیاں لگاتا رہا۔
اُس نے کئی دن بتھوڑا بن کر گزارے۔اب نہ تو اُس کے گھر کی کیاری میں پھول کھل رہے تھے نہ ہی اُن پر تتلیاں آرہی تھیں۔
اُس نے مایوس ہوکر سوکھی کیاریوں کو دیکھا اور سوچا:
’’شاید بتھوڑے پھول نہیں اگا سکتے۔‘‘
اُس رات وہ پھر ایک بار خود کو شیشے میں دیکھ رہا تھا۔
گندا منھ، گندے دانت، گندے کپڑے اور مفت کی آئس کریم کھا کھا کر لٹکا موٹا پیٹ!
وہ تو واقعی بتھوڑا ہی تھا۔
اُس نے اداسی سے سرد آہ بھری اورتکیے کو زور سے جکڑ کر سو گیا۔
اگلی صبح اُسے شہر سے کچھ سودا لینے جانا تھا،مگر اس کی طبیعت کچھ کچھ خراب تھی۔
اُس نے لوگوں کو ڈرانے کا ارادہ ترک کردیا اور آنکھوں کی جگہ چھوڑ کر منھ کے گرد اخبار کا کاغذ لپیٹ لیا۔
جب وہ سودا لے چکا تو اُس پر کافی تھکن طاری ہو رہی تھی۔
اُس نے ایک دکان سے سینڈوچ خریدے اور اپنے پسندیدہ پارک میں بیٹھ کر کھانے لگا۔
اُسے بہت اچھا لگا۔تیز ٹھنڈی ہوا سے اُس کی طبیعت بہتر ہو رہی تھی۔ اچانک کہیں سے ایک فقیر آ کر اُس کے ساتھ والی بنچ پر بیٹھ گیا۔
’’کچھ کھانے کو ہے؟ صبح سے کچھ نہیں کھایا۔‘‘ وہ فقیر لاغر آوازمیں بولا۔
گِرچو نے ایک نظر ہاتھ میں پکڑے سینڈوچ اور ایک نظر اُس بوڑھے کو دیکھا۔ــ
’’کیا بتھوڑے اچھا کام کرتے ہیں؟ کسی کی مدد کرتے ہیں؟‘‘اُس نے سوچا۔
’’شاید نہیں۔بتھوڑے تو کھانا چھینتے ہیں، بانٹتے تھوڑی ہیں،اوربھلا وہ کیوں کھانا دے، اور ویسے بھی اسے تو اتنی بھوک لگ رہی تھی۔وہ تو خود ہی سینڈوچ کے دونوں حصے کھائے گا۔‘‘
ابھی وہ دل میں سوچ ہی رہا تھا کہ تیز ہوا نے اُس کے چہرے کا کاغذ اڑا دیا۔
اب یقینا وہ بوڑھا چیختے ہوئے بھاگنے والا تھا۔
مگر وہ نہیں بھاگا۔
گِرچو نے حیرت سے اسے دیکھا۔وہ اندھا تھا۔
’’بیٹا!کچھ کھانے کو ملے گا؟‘‘
فقیر نے اسی انداز میں اپنا سوال دہرایا۔
گِرچو نے خاموشی سے آدھا سینڈوچ فقیر کے ہاتھ میں تھما دیا۔ فقیر جلدی جلدی سینڈوچ کھاتا گیا اور ساتھ ہی ساتھ گرچو کو دعائیں دیتا رہا۔
’’تم یقینا بہت ہی اچھے ہو۔تمھارا دل بھی بہت اچھا ہے۔تم ہمیشہ ایسے ہی رہنا۔دوسروں کی مدد کرنا۔انُ کا خیال رکھنا۔تم تو بہت رحم دل اور نیک ہو۔‘‘
اُس نے کہتے ہوئے منھ صاف کیا۔
’’ویسے تم ہو کون؟‘‘ اُس نے تجسس سے پوچھا۔
’’میں…میں…‘‘ گرچو کچھ سوچنے لگا،پھر اداسی سے بولا: ’’میںتو…ایک بتھوڑا ہوں۔‘‘
جواب میں فقیر زور زور سے ہنسنے لگا:
’’بتھوڑا ہونا کسی کا نام تھوڑی ہوتا ہے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب یہ کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے میں بھوکا تھا… تو بھوکا ہونا میرا نام کیسے ہوا؟‘‘
’’مگر…مگر میں تو بتھوڑا ہی پیدا ہوا تھا۔‘‘ گرچو نے اداسی سے کہا۔
’’بتھوڑا تو ہر انسان اپنے کام سے بنتا ہے۔جیسے اگر میں ابھی تمھیں تکلیف دوں یاخوف کی وجہ بنوں تو میں بھی بتھوڑا ہوا۔‘‘فقیر پوپلے منھ سے ہنسا۔
’’چاہے کوئی بتھوڑے جیسا دِکھتا بھی ہو؟‘‘
گرچو فقیر کی بات سن کر حیران ہو رہا تھا۔
’’ہم کہاں پیدا ہوتے ہیں یا کیسے پیدا ہوتے ہیں، وہ ہمارے اختیار میں نہیں… مگر ہم کیا بنتے ہیں، وہ تو ہمارے ہاتھ میں ہے ناں۔
کچھ لوگ خوبصورت پیدا ہوتے ہیں اور بتھوڑے بن جاتے ہیں…اورکچھ لوگ بتھوڑے پیدا ہوتے ہیںاور خوبصورت بن جاتے ہیں، صرف اپنے برتائو اور حسنِ سلوک کی وجہ سے۔‘‘
فقیر نے ہاتھ کی ایک تھپکی گرچو کے کندھے پر دی اور لاٹھی ٹیکتا چل دیا۔
گرچو بنچ پر اکیلا بیٹھارہا۔
’’تو کیا میں بتھوڑا نہیں؟…فقیر انکل نے کہا کہ ہم اپنے کام سے بتھوڑے بنتے ہیں، شکل یا نسل سے نہیں۔‘‘
وہ کافی دیر بیٹھا سوچتا رہا۔
اُس نے سینڈوچ کے بچے کھچے ذرے قریب ہی منڈلاتے ایک پرندے کو دیے۔
وہ گرچو کے ہاتھ پر بیٹھ کر مزے سے کھانے لگا۔
سورج کی غروب ہوتی کرنوں سے گرچو کی آنکھیں چمک اٹھیں۔’’ہاں!…میں بتھوڑا نہیں ہوں۔‘‘ اُس نے خود سے سرگوشی کی۔
وہ یہ کہتے ہوئے اٹھا اور قریبی تالاب کے صاف پانی سے منھ دھویا۔
اُسے تالاب میں ایک اچھے، نیک دل مگر مچھ کا عکس نظر آیا…کسی بتھوڑے کا نہیں!
اگلے روز اُس نے جم کر گھر کی صفائی کی۔پودوں کو پانی دیا، دیواروں اور برتنوں سے گرد جاڑی۔منھ اور دانت اچھی طرح صاف کیے اور احتیاط سے تہہ کی ہوئی پتلون اور کرتا پہن لیا۔
اب اُس نے جلدی جلدی مزیدار چاکلیٹوں اور ٹافیوں سے پتلون کی جیب بھری اور درجن بھر غبارے خریدکر بس اسٹاپ جا پہنچا۔
بس رکی تو گرچو نے مزے سے گاتے ہوئے سب بچوں میں رنگ برنگے غبارے بانٹے۔سب لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔
اُس نے جب ٹافیاں بانٹتے ہوئے ایک ننھی سی بچی کے سر پر پیار کیا تو وہ ماں کی گود سے نکل کر گرچو کو چمٹ گئی۔
’’پیارے انکل!آپ نے مجھے ٹافیاں دیں…آپ کا نام کیا ہے؟‘‘
’’مم…میرا نام… بتھ… بتھ…‘‘گرچو پہلے گڑبڑا گیا، پھر مزاحیہ شکلیں بناتے ہوئے لہک لہک کر گنگنانے لگا:
’’نام ہے میرا
گرچو بتھوڑا
گرچو بتھوڑا
سر مراجیسے
کوئی ہتھوڑا
کوئی ہتھوڑا…!‘‘
بچی کھکھلا کر ہنس دی۔
بس میں گرچو کی وجہ سے اِس بار بھی شور بلند ہو ا تھا،مگر اِس بار وہ شور ہنسی کا تھا۔
سب مسافر ہنستے ہنستے دوہرے ہورہے تھے۔
ایسا مزاحیہ بتھوڑا انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا…!

٭…٭