گھوڑا ہو تو ایسا

میں گائوں میں رہتا تھا اور اسکول میرے گھر سے چار میل دور تھا۔بس یا تانگے پر جانے کے لیے میرے پاس پیسے نہ تھے البتہ گھر میں درمیانہ قد کا ایک گھوڑا تھا۔میں اسی پر سوار ہوکر اسکول جاتا اور اسے وہیں باندھ کر جماعت میں چلا جاتا، وقفے کے دوران میں گھوڑے کے آگے چارہ ڈال دیتا تھا اور اسے تھپک کر دوبارہ پڑھنے چلا جاتا تھا۔
ایک روز جو میں اسے چارہ دینے نکلا تو دیکھا کہ گھوڑا غائب ہے۔
جماعت میں آیا تو پتا چلا کہ دو شریر لڑکے بھی لاپتا ہیں۔مجھے یقین ہوگیا کہ وہ دونوں میرے گھوڑے کی سواری گانٹھ رہے ہیں۔آخر چھٹی کا وقت ہوگیا اور لڑکے نہیں آئے، البتہ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ گھوڑا وہیں کھڑا ہے جہاں میں اسے ہر روز باندھا کرتا تھا۔بالکل یوں لگا جیسے وہ کھڑا میرا انتظار کر رہا ہو۔
میں خاموشی سے گھر آگیا۔اگلے روز اسکول میں وہی دونوں لڑکے ملے۔دونوں بہت شرمندہ تھے۔میرے پاس آکر کہنے لگے کہ کل ہم تمھارا گھوڑا لے کر دریا کی سیر کو چلے گئے تھے۔گھوڑا ہمیں سیر کراتا رہا لیکن جوں ہی اسکول کی چھٹی کا وقت قریب آیا گھوڑا اَڑ گیا اور اس نے آگے جانے سے انکار کردیا۔مجبوراً ہمیں اترنا پڑا۔ہمارا اترنا تھا کہ گھوڑے نے واپس اسکول کی طرف دوڑ لگادی اور جب ہم چھے میل پیدل چلتے اور مرتے کھپتے واپس آئے تو لوگوں نے بتایا کہ گھوڑا عین چھٹی کے وقت آیا اور تمھیں لے کر گھر چلا گیا۔
یہ قصہ سنا کر دونوں لڑکوں نے مجھ سے معافی مانگی۔
میں نے ہنس کر کہا کہ معافی مانگنی ہی ہے تو مجھ سے نہیں، گھوڑے سے مانگو۔
دونوں لڑکوں نے گھوڑے کی گردن میں بانہیں ڈال دیں۔اُس کے بعد سے پکے دوست ہوگئے ہم تینوں،نہیں،ہم چاروں۔

٭…٭